(ایک بیوی ایک بیٹا تین بیٹی میں مال کیسے تقسیم کریں؟)
(سوال:حضرت مفتی صاحب قبلہ عرض یہ ہے کہ زید کاانتقال ہوچکا ہے زید کے ورثہ میں ایک بیوی ایک بیٹا اور تین بیٹیاں موجود ہیں اور 8000000لاکھ روپے کی قیمت کی پلاٹ موجود ہے اس قیمت کے حساب سے ورثہ میں رقم کیسے تقسیم ہوگی۔جواب عنایت فرمائیں نوازش ہوگی۔ (سائل: محمدعلیم گلبرگہ شریف)
باسمه تعالیٰ وتقدس الجواب: برتقدیر صدق سائل وانحصار ورثاء در مذکورین بعد اُمور ثلاثہ متقدمہ علی الارث(یعنی کفن دفن کے تمام اخراجات نکالنے اور اگر مرحوم کے ذمہ قرض ہو تو اس کی ادائیگی اور غیر وارث کے لئے وصیت کی ہو تو تہائی مال سے اسے پورا کرنے کے بعد) مرحوم کا مکمل ترکہ چالیس حصوں پر تقسیم ہوگا۔ ان میں سے بیوی کو آٹھواں حصہ یعنی پانچ حصے ملیں گے کیونکہ میت کی اولاد موجود ہے۔
چنانچہ قرآنِ کریم میں ہے: فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم۔ (النسآء: ۴/۱۲)
ترجمہ: پھر اگر تمہاری اولاد ہو تو بیویوں کے لیے تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں حصہ ہے۔
اور باقی پینتیس حصے میت کی اولاد میں اس طرح تقسیم ہوں گے کہ بیٹے کو چودہ حصے اور ہر ایک بیٹی کو سات، سات حصے ملیں گے، کیونکہ بیٹے کا حصہ بیٹی کے حصے سے دُگنا ہوتا ہے۔ چنانچہ قرآنِ کریم میں ہے: یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْۗ-لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ (النسآء: ۴/۱۱) ترجمہ: اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے برابر ہے۔
لہٰذا، اَسّی لاکھ روپے میں سے بیوی کو دس لاکھ روپے، بیٹے کو اٹھائیس لاکھ روپے، اور ہر ایک بیٹی کو چودہ، چودہ لاکھ روپے ملیں گے۔والله تعالیٰ أعلم بالصواب
کتبہ: محمد اُسامہ قادری (پاکستان، کراچی)
جمعہ،۱۰/محرم، ۱۴۴۸ھ۔۲۶/جون، ۲۰۲۶م
ایک تبصرہ شائع کریں